25 March, 2019


تازہ ترین معلومات


عرس عزیزی کی پہلی شب میں منعقدہ جلسے سے علما ودانش وران ملت کا خطاب

ممتاز ماہر تعلیم اور ولی اللہ حافظ ملت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمہ کے دو روزہ عرس پاک کی پہلی شب میں علما وعوام کا جم غفیر موجود تھا ۔ عزیزی اسٹیج پر مصباحی فارغین اور دیگر علما ومشائخ جلوہ افروز تھے ۔ بعد نماز عشا تلاوت قرآن مجید سے محفل کا آغاز ہوا ، اس کے بعد یکے بعد دیگرے خطبا ومقررین اور شعراے اسلام نے مذہب حق کی حقانیت اور اسلام کے وسیع مفاہیم پر مشتمل خطابات کیے اور منقبتیں پڑھیں۔ نثر ونظم میں صاحب عرس حافظ ملت علیہ الرحمہ کے دینی وعلمی ، تعلیمی وتنظیمی اور اصلاحی افکار پر مشتمل کارناموں کا بیان کیا گیا ، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں نظم وضبط برقرار رکھنے اور ہمہ وقت متحرک رہنے کا حکم دیتا ہے ۔ ہماری نئی نسل آلات لہو ولعب کے سحر میں کھو کر اپنا وقت اور اپنی صلاحیت دونوں برباد کررہی ہے ،یہ مغربی سازشیں ہیں جو مسلم نوجوانوں کو پوری طرح ناکارہ اور زوال آمادہ بنانے پر تلی ہوئی ہیں ،تاکہ قوم مسلم کا مستقبل سنوارنے کا خواب دیکھنے والے یہ نوجوان خواب خرگوش میں مست ہوجائیں اور ان کی زندگی حقیقی اسلام سے کوسوں دور چلی جائے ۔ تقریباً گیارہ بجے صدر العلماء علامہ محمد احمد مصباحی نے اساتذہ و طلبہ جامعہ اشرفیہ اور دیگر مصنفین کی دو درجن سے زائد جدید تصنیفات کی رسم اجرا انجام دی جن میں خصوصیت کے ساتھ نواے دل ، فروغ رضویات میں فرزندان اشرفیہ کی خدمات ، خطبات حافظ ملت و عزیز ملت ، خلاصہ سیرت ابن ہشام، گستاخان صحابہ کا انجام ،اسلام کا تصور نظافت، تنقید برمحل، رضا بک ریویو کا حجۃ الاسلام نمبر وغیرہا کتب قابل ذکر ہیں ۔آپ نے ابتدا میں فرمایا کہ الحمد للہ جماعت اہل سنت میں بڑی تیزی کے ساتھ نئے قلم کاروں کی قلمی صلاحتیں سامنے آرہی ہیں اور وہ مختلف ضروری موضوعات پر اپنی اور دیگر قدیم مصنفین کی کتابوں کے تراجم منظر عام پہ لا رہے ہیں۔ میں سب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔اس سے قبل مفتی زاہد علی سلامی نے طلبہ تنظیم مجلس خیر خواہ کی کوششوں کی سرہنا کی اور ان کے زیر انتظام شائع شدہ دینی لیٹریچر کا تعارف کرایا ۔ یہ تنظیم عرس عزیزی میں مذہبی امور کی دیکھ ریکھ کرتی ہے اور لوگوں پر نمازوں کی طرف رغبت دلاکر انھیں مسجد پہنچانے کا انتظام بھی کرتی ہے ۔ جانشین حافظ ملت علامہ شاہ عبدالحفیظ عزیزی ، سربراہ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ کی سرپرستی ، صدرالعلماء علامہ محمد احمد مصباحی ناظم تعلیمات اشرفیہ اور سراج الفقہاء مفتی محمد نظام الدین رضوی کی قیادت میں یہ کاروان علم و دانش دیر رات تک چلتا رہا اور سامعین ان بیانات سے جھومتے رہے ۔جن خطبا کی تقریریں ہوئیں ان میں مولانا محمد ہارون مصباحی ، مولانا توصیف رضا سنبھلی ،مولانا وقار احمد عزیزی بھیونڈی وغیرہم کے نام لیے جاسکتے ہیں۔آخری تفصیلی خطاب خلیفہ عزیز ملت مولانا وقار احمد عزیزی بھیونڈی کا ہوا جس میں آپ نے جلالۃ العلم حافظ ملت علیہ الرحمہ کی زندگی پاک کے اہم گوشوں اور اساتذہ ومشائخ کی تئیں ان کے باادب روابط پر روشنی ڈالی اور جامعہ اشرفیہ کی علمی ورضویاتی عالمی خدمات کو تفصیل سے بیان کیا ۔ انھوں نے کہا کہ’’ جامعہ اشرفیہ کی نیو میں حضرت اشرفی میاں ، صدر الشریعہ ، مفتی اعظم ہند ، سید العلماء اور محدث اعظم ہند و مجاہد ملت وغیرہم جیسے عظیم وجلیل اساطین امت کی دعائیں شامل ہیں ، ہزاروں سیلاب بلا اس کی ترقی کا راستہ نہ روک سکے ہیں نہ ان شاء اللہ روک سکیں گے۔‘‘ مولانا زاہد اعظمی نے نظامت کی ذمہ داری نبھائی ۔اسٹیج پربیرونی علما میں حضرت مولانا عبدالمبین نعمانی ،مفتی انور نظامی، ڈاکٹر امجد رضا امجد ، مفتی محمد عالم نوری ، مولانا انتخاب عالم مصباحی ، مولانا سلطان رضا ، برطانیہ ، مولانا احمد رضا مصباحی اور مولانا اختر الاسلام چریاکوٹی وغیرہم اور اساتذہ اشرفیہ میں مفتی معراج القادری ، مولانا مسعود احمد برکاتی ، مولانا نفیس احمد مصباحی ، مولانا زاہد علی سلامی ،مفتی نسیم احمد مصباحی ، مولانا ناظم علی مصباحی ، مولانا صدرالوریٰ قادری، مولانا اختر کمال قادری ،، شہزادہ عزیز ملت مولانا نعیم الدین عزیزی ،مولانا ساجد علی مصباحی و دیگر اساتذہ اخیر تک موجود رہے اور سامعین کی بھی اچھی خاصی تعداد ہمہ تن گوش تھی ۔ دوسری شب میں خطبا کے اہم خطابات کے ساتھ گیارہ بج کر پچپن منٹ پر قل شریف ہوگا، اس سے قبل مفتی محمد نظام الدین رضوی کے سوال وجواب کا سیشن ہوگا ،پھر دو عظیم شخصیات کی بارگاہ میں حافظ ملت ایوارڈ تفویض کیا جائے گا۔  بعد میں طلبہ جامعہ اشرفیہ کی دستار بندی ہوگی اور پھر صبح سے کچھ پہلے یہ دوروزہ عرس اختتام پذیر ہوجائے گا۔

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved