تفاصیل @ الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور اعظم گڑھ یوپی انڈیا



نظام تعلیم

جامعہ اشرفیہ کے نظام تعلیم پر اثر ڈالیں تو اس کی خصوصیات واضح ہوں گی۔ بفضلہ تعالی یہاں کمیت سے زیادہ کیفیت پر توجہ دی جاتی ہے۔ انتظامیہ اور مجلس تعلیم کی جانب سے خامیوں اور خوبیوں کا جائزہ لیتے ہوئے اصلاح وترقی کی جانب پیش قدمی برابر جاری رہتی ہے۔ ادارہ کے سربراہ اعلی، ناظم تعلیمات، صدر المدرسین اور بعض مدرسین کا اس سلسلے میں اہم کردار ہے بلکہ سبھی اساتذہ اسی فکر کے ساتھ سرگرم عمل ہیں کہ ہم خوب سے خوب تر کی جانب کس طرح بڑھیں، یکم؍ اگست ۲۰۰۰ء سے ۳۰؍ جون ۲۰۱۴ء تک حضرت علامہ محمد احمد مصباحی صدر المدرسین کے عہدے پر فائز رہ کر جامعہ کے تمام تعلیمی شعبوں کی قیادت ونگرانی فرماتے رہے اور اب یکم ؍ جولائی ۲۰۱۴ء سے حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین رضوی صاحب قبلہ صدارت کے عہدے پرفائز ہیں جب کہ جامعہ کے ناظم تعلیمات حضرت علامہ محمد احمد مصباحی ہیں اور ان دونوں حضرات کی قیادت ونگرانی میں جامعہ اپنے تمام شعبہ جات کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ کسی استاذ کے تقرر میں یہ لحاظ ہوتا ہے کہ جس شعبہ یا درجہ کے لیے اس کا تقرر ہو اس میں اس سے زیادہ کی صلاحیت موجود ہو اور اپنے کام کو اخلاص ودیانت کے ساتھ بحسن وخوبی انجام دے سکتا ہو۔ مقررہ نصاب کی تکمیل ضروری ہے۔ ابتدائی درجات کی کتابیں ، اور کسی فن کے قواعد کی کتابیں پوری پڑھانا لازم ہے تاکہ طالب علم اگلے درجات کو بخوبی طے کر سکے۔ ورنہ درمیان ہی میں دم توڑ دے گا۔ پھر اسی درجہ میں رہ کر اسے دوبارہ پڑھنا ضروری ہوتا ہے۔ بالفرض کو ئی طالب علم ایک درجہ میں دو بار فیل ہوا تو اسے خارج کر دیا جاتا ہے۔

داخلہ

نصاب

تفصیلی نصاب

مفتی شریف الحق دارالافتاء

کمپیوٹر سینٹر

مجلس شرعی

ادارہ تحقیقات حافظ ملت

مجلس برکات

نشرو اشاعت

شریعت کالج

یہاں مواد جلد ڈال دیا جائے گا۔

دعوت و تبلیغ

یہاں مواد جلد ڈال دیا جائے گا۔

حفظ القرآن و تجوید

یہاں مواد جلد ڈال دیا جائے گا۔

تخصص فقہ حنفی

یہاں مواد جلد ڈال دیا جائے گا۔

تخصص عربی ادب

یہاں مواد جلد ڈال دیا جائے گا۔

تخصص ادیان و مذاہب

یہاں مواد جلد ڈال دیا جائے گا۔

اشرفیۃ گرلز ہائی اسکول

اشرفیۃ گرلز اسکول دارالعلوم اہلسنت مدرسۃ اشرفیۃ مصباح العلوم کے زیر سرپرستی چل رہا ہے جو مبارکپور شہر یں واقع ہے۔ یہ اسکول یو۔پی بورڈ آف ایجوکیشن سے ملحقہ ہے اور لڑکیوں کے لیے میٹرک تک کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ اسکول انگلش میڈیم نہیں بلکہ ھندی ہے۔ اس اسکول یں چودہ کمرے اور ساٹھ ہال ہیں۔ اس اسکول میں تیرہ خواتین اساتذہ اور ایک کلرک اور ۲ چپڑاسی ہیں جو اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ کل سٹوڈنٹس کی تعداد کلاس کے حساب سے مندرجہ ذیل ہے:

سیریل نمبر نام کلاس کل تعداد
001 6th 156
002 7th 140
003 8th 108
004 9th 90
005 10th 115
کل 609

اشرفیۃ ہائر سیکنڈری اسکول

یہاں مواد جلد ڈال دیا جائے گا۔

اشرفیۃ انٹر کالج

اشرفیۃ گرلز اسکول دارالعلوم اہلسنت مدرسۃ اشرفیۃ مصباح العلوم کے زیر سرپرستی چل رہا ہے جو مبارکپور شہر یں واقع ہے۔ یہ اسکول یو۔پی بورڈ آف ایجوکیشن سے ملحقہ ہے اور لڑکیوں کے لیے میٹرک تک کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ اسکول انگلش میڈیم نہیں بلکہ ھندی ہے۔ اس اسکول میں اکتیس کمرے اور سولہا ہال ہیں۔ اس اسکول میں بائیس اساتذہ اور ایک کلرک اور تین چپڑاسی ہیں جو اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ کل سٹوڈنٹس کی تعداد کلاس کے حساب سے مندرجہ ذیل ہے:

سیریل نمبر نام کلاس کل تعداد
001 6th 190
002 7th 145
003 8th 152
004 9th 162
005 10th 152
006 11th 120
007 12th 48
کل 969

ہاسپٹل

الجامعۃ الاشرفیہ میں اشرفیہ ہاسپیٹل کا افتتاح

۶؍دسمبر ۲۰۱۰ء بعد نمازِ مغرب اجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کے کیمپس میں واقع اشرفیہ ہاسپیٹل کے افتتاح کے موقع پر فاتحہ خوانی کا پروگرام ہوا، جس میں غوث اعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے توشہ شریف پر طریقہ غوثیہ کے مطابق فاتحہ ہوئی۔الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کے اساتذہ، طلبہ اور مبارک پور کے دین دار لوگوںنے بڑی تعداد میںشرکت کی ،تلاوتِ کلامِ پاک کے بعد توشہ پر ایصالِ ثواب کیا گیا۔ شجرہ خوانی الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کے سربراہِ اعلیٰ عزیز ملت حضرت علامہ عبد الحفیظ صاحب قبلہ مد ظلہ العالی نے کی اور امتِ مسلمہ کی فلاح و ترقی اور خاص طور پر اشرفیہ ہاسپیٹل کی کامیابی و کامرانی کے لیے دعائیں کیں۔

اشرفیہ ہاسپیٹل کے افتتاح کی اس نورانی تقریب میں شیخ الجامعہ حضرت مولانا محمد احمد مصباحی، مولانا نصیر الدین عزیزی، مولانا نعیم الدین عزیزی ، مفتی زاہد علی سلامی، جناب عبد العلی عزیزی اور ناظمِ اعلیٰ حاجی سرفراز احمد اور نائب صدر صوفی نظام الدین وغیرہ نےبھی شرکت فرمائی۔ اس طرح عزیز ملت حضرت سربراہِ اعلیٰ دامت برکاتہم العالیہ نے اسلامی طریقے پر اشرفیہ ہاسپیٹل کا افتتاح فرما کر خدمتِ خلق کے ایک مبارک سلسلے کا آغاز فرمایا۔

اشرفیہ ہاسپیٹل کے افتتاح کی اس نورانی تقریب میں شیخ الجامعہ حضرت مولانا محمد احمد مصباحی، مولانا نصیر الدین عزیزی، مولانا نعیم الدین عزیزی ، مفتی زاہد علی سلامی، جناب عبد العلی عزیزی اور ناظمِ اعلیٰ حاجی سرفراز احمد اور نائب صدر صوفی نظام الدین وغیرہ نےبھی شرکت فرمائی۔ اس طرح عزیز ملت حضرت سربراہِ اعلیٰ دامت برکاتہم العالیہ نے اسلامی طریقے پر اشرفیہ ہاسپیٹل کا افتتاح فرما کر خدمتِ خلق کے ایک مبارک سلسلے کا آغاز فرمایا۔

دوسرے دن ۷؍ دسمبر بروز منگل ایک عظیم الشان پروگرام بھی ہوا، جس کی صدارت ملک کے ہر دل عزیز سیاسی لیڈر جناب عبد العلی عزیزی صاحب نے کی، جب کہ پروگرام کی نظامت پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر عبد الاول نے کی۔ڈاکٹر عبد الاول راعینی نے اشرفیہ ہاسپیٹل کی ضرورت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقہ میں کوئی معیاری نرسنگ ہوم نہ ہونے کی وجہ سے اشرفیہ کے ہزاروں طلبہ اور قرب و جوار کے لوگ کافی پریشانی کا شکار تھے۔ لیکن اب اشرفیہ ہاسپیٹل سے ان کی میڈیکل پریشانوں کا ازالہ ہو گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ ہاسپیٹل بہت جلد ایک اہم مقام حاصل کر لے گا، جس میں ہر قسم کی سہولیات دست یاب ہوں گے۔

پروگرام کا آغاز قاری جنید عالم کی تلاوتِ کلامِ پاک اور شکیل مبارکپوری کی استقبالیہ نظم سے ہوا۔ اس کے بعد کان پور یونیورسٹی کے لکچررڈاکٹر دل نواز رضا صاحب نے عوام کو خطاب کیا۔ انھوں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ عن قریب الجامعۃ الاشرفیہ میں حافظِ ملت طبیہ کالج کی بنیاد بھی رکھی جائے گی۔پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شمیم احمد صاحب چیئر مین نگر پالیکا مبارک پور نے کہا کہ مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کی سخت ضرورت ہے، اس کے بغیر مسلم قوم کامیاب نہیں ہو سکتی۔

پروگرام کے مہمانِ خصوصی یشونت سنگھ ایم.ایل.سی. نے عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الجامعۃ الاشرفیہ سماج کا ایک ایسا مضبوط قلعہ ہے جہاں سے سب کو فیض ملتا ہے، انھوں نے کہا کہ جامعہ اشرفیہ اور یہاں کی بنارسی ساڑی صنعت کی وجہ سے آج یہ سرزمین پوری دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہے۔ اور اس پہچان کو برقرار رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

صدر اجلاس قومی پس ماندہ طبقات کمیشن کے سابق رکن عبد العلی عزیزی نے کہا کہ کوئی بھی کام کرنے اور ترقی کے منازل طے کرنے کے لیے نیک نیتی اور عزم و حوصلہ کی ضرورت ہے۔ رونے دھونے اور دوسروں پر نا انصافی اور تنگ نظری کا الزام لگانے سے کچھ بھی ملنے والا نہیں ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ آج کا مسلمان اسی ڈگر پر چل رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ ترقی کرنے کے بجاے مزید تنزلی کے غار میں گرتا جا رہا ہے۔عزیزی صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے ملک کا سب سے بڑا اثاثہ صوفی سنتوں کا پیغام اور ان کی انسانیت نوازی ہے۔ اس کے سہارے ہم خود کو اور اپنے ملک کو آگے لے جا سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں مسلمانوں سے کہنا چاہوں گا کہ وہ ترقی کی جانب اپنے قدم بڑھائیں۔ انھوں نے اشرفیہ ہاسپیٹل کو مرکزی حکومت سے ایک ایکس رے مشین دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اسپتال کو ایک میڈیکل موبائل وین دلانے کی کوشش کریں گے۔

اس موقع پر الجامعۃ الاشرفیہ کے ناظمِ اعلیٰ حاجی سرفراز احمد، نائب صدر الحاج صوفی نظام الدین، نائب ناظم جناب مہدی حسن پردھان، محاسب ابو بکر، اشرفیہ ہاسپیٹل کے منیجر ڈاکٹر عبد الخالق انصاری، اشرفیہ ہاسپیٹل کے انچارج میڈیکل افسر ڈاکٹر فہیم عزیزی، ڈاکٹر جاوید، ڈاکٹر فخر عالم، ڈاکٹر فرید احمد، ڈاکٹر رضوان احمد، اسلامیہ ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر قمر الہدیٰ انصاری، عبد اللہ پبلک اسکول کے منیجر ضمیر احمد، اقرا پبلک اسکول کے منیجر شکیل احمد سہارا،اساتذہ و طلبہ، سیاسی و سماجی کارکنان اور معزز افراد بھی موجود تھے۔

اشرفیہ ہاسپیٹل کے انچارج ڈاکٹر فہیم عزیزی نے بتایا کہ حافظ ملت طبیہ کالج کی کارروائی اپنےآخری مرحلے میں ہے، انشاء اللہ جلد ہی جامعہ اشرفیہ میں حافظ ملت طبیہ کالج کا افتتاح بھی ہوگا۔

طلبہ کی خدمات

یہاں مواد جلد ڈال دیا جائے گا۔

ذرائع

یہاں مواد جلد ڈال دیا جائے گا۔